پلوامہ حملے کی حقیقت

پلوامہ حملے کی حقیقت

مصنف:- عاٸشہ ارشاد ملک  

    For English reader                                                                  

  میڈیا ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جو کسی بھی ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ میڈیا عوام کو باشعور کرتا ہے اور انھیں دنیا میں ہونے والے واقعات سے باخبر کرتا اس میں کوٸی شک نہیں کہ میڈیا عوام کی

تربیت میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ میڈیا ایک ملک کا دیگر ممالک سے روابط کا زریعہ ہوتا اور ایک قابل اعتماد ادارہ ہے اس لیے میڈیا والوں کی زمہ داری ہوتی کے وہ سچ عوام تک پہنچاۓ کیونکہ میڈیا ہی عوام 

میں دوسری اقوام کے محبت ، نفرت اور ہمدردی کے جذبات پیدا کرتا ہے. عوام آنکھیں بند کر کے دی گٸ ہر خبر پر یقین کرتے ہیں مگر کچھ ممالک ایسے بھی ہیں۔ جن کا میڈیا ان کی حکومت کے کنڑول میں ہے ۔ 

اور صرف عوام کو وہی دیکھایا جاتا جو حکومت دیکھانا چاہتی ہو۔ ایسا ہی میڈیا بھارت کا ہے۔اگر بھارتی میڈیا کو دنیا کا سب سے جھوٹا اور بکا ہوا میڈیا کہا جاۓ تو ہرگز غلط نہ ہو گا۔ بھارتی حکومت عوام سے

 ٹیکس لیتی  اور پھر اسی عوام کو میڈیا کے ساتھ مل کر خوب بےوقوف بنایا جاتا۔ بھارتی میڈیا اپنے ہی عوام کے ساتھ دھوکہ کرنے میں سب سے آگے ہے۔ جس کی مثال حال ہی میں بھارتی نیوز چینل ریپبلکن

 ٹی وی  کے مالک اور اینکر پرسن ارنب گوسوامی ہے۔ جس نے عوام کو خوب بےوقوف بنایا اور بھارت کا سب سے بڑا نیوز اینکر حقیقت میں مودی کا پالتو ہے اس پر 

کٸ کیس چل رہے ہیں۔ 90% بھارتی میڈیا عوام تک جھوٹ اور دھوکے پر مبنی خبروں کے علاوہ کچھ نہیں دیکھاتا ہے۔ 

14 فروری 2019 کو مقبوضہ کشمیر  ضلع پلوامہ میں (اونتی پورہ کے قریب) میں جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سیکیورٹی اہلکاروں کو لے جانے والی گاڑیوں کے قافلے پر حملہ ہوا۔ اس حملے  میں سنٹرل 

ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کے 40 اہلکار اور حملہ آور ہلاک ہوگئے۔  بھارت نے اس حملے کا  الزام فوراً بنا تصدیق کے پاکستان پر لگا دیا اور حملے کا ذمہ دار پاکستان کو قرار دیا ہے۔ پاکستان نے اس 

حملے کی مذمت کی اور اس سے کسی بھی طرح کے رابطے کی تردید کی ہے۔ابتدائی تفتیش سے معلوم ہوا کہ کار میں 300 کلوگرام سے زیادہ (660 پونڈ) دھماکہ خیز مواد شامل تھا جس میں 80 کلو گرام 

 آر ڈی ایکس ، ایک اعلی دھماکہ خیز اور امونیم نائٹریٹ تھا۔ لیفٹیننٹ جنرل ہوڈا نے بتایا کہ ہوسکتا ہے کہ یہ دھماکہ خیز مواد کسی تعمیراتی جگہ سے چوری کیا گیا ہو۔ انہوں نے ابتدا میں کہا کہ یہ ممکن نہیں تھا 

کہ انہیں سرحد پار سے اسمگل کیا گیا تھا ، لیکن بعد میں بیان کو بدلتےہوۓ کہا  کہ وہ اس سے انکار نہیں کرسکتے ہیں یہ مواد سرحد پار سے بھارت بھیجا گیا ہے۔

قومی تفتیشی ایجنسی خود کش حملہ آور کی شناخت کرنے اور اس کی تصدیق کرنے میں کامیاب ہونے کی دعواہ کر رہی تھی کہ خودکش حملے میں استعمال ہونے والی "کار کے معمولی ٹکڑے" کے ڈی این اے

 نمونے عادل احمد ڈار کے والد کے ساتھ مماثل تھے جن کا تعلق پاکستان سے ہے اس لیے اس حملے کا ذمہ دار پاکستان ہی ہے۔

۔ تاہم ، ایک سال کی تفتیش کے بعد بھی ، این آئی اے دھماکہ خیز مواد کے ذرائع کا سراغ لگانے میں ناکام رہی۔اور ثابت نہ کر سکی کہ پاکستان اس حملے میں ملوث ہے۔اس حملے کے بعد بھارتی میڈیا نے کھل کر 

پاکستان سے نفرت کا اظہار کیا۔ اور بھارتی عوام میں نفرت کے جزبات کو بھڑکایا بھارتی عوام نے پاکستان پرحملےکا مطالبہ شروع کر دیا۔ بھارتی میڈیا نے پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے ہر حربہ استمعال کیا۔ 

جس پر بھارتی حکومت نے  26 فروری کی صبح سویرے پاکستان کے علاقے بالاکوٹ پر حملہ کیا۔ ہندوستان کے جنگی طیاروں نے پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے قصبے بالاکوٹ کے نواح میں بم گرائے۔ اور 

تین سو دہشتگردوں کو مارنے کا دعواہ کیا جو بعد میں جھوٹ ثابت ہوا۔ بھارتی میڈیا عوام کو بےوقوف بناتی رہی بالاکوٹ حملے میں کوٸی دہشت گرد نہیں مارا گیا بلکہ پاکستان کے تین درخت گراۓ جس کے بدلے میں 

پاکستان نے حملہ کر کے بھارت کے دو جنگی طیارے مار گراۓ اور ایک پاٸلٹ گرفتار کیا گیا جس کو بعد میں انسانی ہمدردی کی وجہ سے چھوڑ دیا گیا۔

کچھ روز قبل بھارتی پولیس نے ارنب گوسوامی کی وہاتساپ چیٹ لیک کی جس کے مطابق پلوامہ حملے اور ہڑتال سے تین دن پہلے - 23 فروری کو واٹس ایپ چیٹ میں گوسوامی نے براڈکاسٹ آڈوئین ریسرچ کونسل 

کے سابق چیف ایگزیکٹو آفیسر پرتھو داس گپتا کو بتایا تھا کہ یہ "عام ہڑتال نہیں ہے بلکہ کچھ بہت بڑا ہوگا۔ جس کے بھارتی جنتا پارٹی ہی الیکشن جیتے گی۔ اس بات سے یہی ثابت ہوتا کہ پلوامہ بھارتی حکومت کا ہاتھ ہے۔ بھارتی 

حکومت نے  انتخابات جیتنے کے لیے پلوامہ کا جھوٹا حملہ خود کروایا اور اپنے ہی چالیس فوجیوں کو مار کر پاکستان پر  دہشت گردی سے متعلق الزامات لگاتا رہا۔
 
حملہ بھارت کی بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت نے اپنے پڑوسی کی ساخت کو خراب کرنے کے لئے کیا گیا جس میں پاکستان کا کوٸی ہاتھ نہیں تھا ۔

 ریپبلک ٹی وی کے چیف ایڈیٹر انچیف ارنب گوسوامی کے واٹس ایپ چیٹس  کے مطابق  اس کو پلوامہ حملے اور بالاکوٹ فضائی حملوں کے بارے میں پہلے سے معلومات تھیں۔ بھارتی میڈیا اور بھارتی حکومت 

دونوں مل کر اپنے ہی عوام کو دھوکہ دینے میں مصروف ہیں۔ بھارت میڈیا بھارتی جنتا پارٹی کا پالتو بکا ہوا میڈیا ہے جو حکومت کا ہر معاملے میں ساتھ دیتا ہے۔ اور بھارتی جنتا پارٹی کو الیکشن جتوانے کے لیے کسی بھی حد 

تک جا سکتا ہے۔ بھارتی حکومت نےاپنےہی فوجیوں پر حملہ کر کے انھیں قتل کر دیا اور الزام پاکستان پرلگا دیا جس پر بھارتی میڈیا نے بھارتی حکومت کا ساتھ دیتے ہوۓ بھارتی عوام کو گمراہ کیا اور ان میں 

پاکستان کے لیےنفرت کے جذبات جگاۓ ، عوام کو اکسایا کہ وہ پاکستان پرحملہ کامطالبہ کریں۔ پےلوامہ کی طرح ایک اور ڈرامہ رچایا گیا۔ پاکستان کے بالاکوٹ میں اسٹراٸیک کر کے تین سو دہشتگردوں کو مارنے 

کا دعواہ کیا گیا۔اور بھارتی میڈیا نے اس جھوٹی خبر کو  پھیلایا تاکہ بھارتی عوام کو خوش ہو کر بھارتی جنتا پارٹی کو ووٹ دے۔بھارتی جنتا پارٹی اپنے ہی لوگوں کو قتل کر کہ ان کےجنازوں پر سیاست کھیل رہی ہے 

۔ صرف اقتدار کے لیے اپنے عوام کو قتل کیا جارہا اور مودی مگرمچھ کے آنسو بہا کر عوام سے مرے ہوۓ فوجیوں کے نام پر ووٹ مانگ رہا۔ پاکستان کو بھارت کو ختم کرنے کی ضرورت نہیں اس کے بھارتی

 جنتا پارٹی ہی کافی ہے۔جو آہستہ آہستہ بھارتی عوام کے ساتھ ساتھ بھارت کو بھی نگل جاۓ گا۔  بھارتی جنتا پارٹی کی مثال اس ناگن کی سی ہے جو وقت آنے پر اپنے ہی بچوں کو ڈس لیتی ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

سکھ کسانوں کی حالات زندگی اور تحریک خالصتان

جوباٸیڈن کو اقتدار میں لانے کے مقاصد